Balochistan Focus

ژوب اور زیارت حملوں کے شہداء کے لواحقین کا کوئٹہ میں دھرنا جاری، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ

کوئٹہ: زیارت اور ژوب میں حالیہ دہشت گرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور شہریوں کا احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی کوئٹہ میں جاری رہا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ حملوں میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مظاہرین نے شہداء کی میتوں کے ہمراہ مختلف مقامات پر دھرنا دے رکھا ہے۔ احتجاج میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور عام شہری مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، تاہم ان واقعات کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں نے ریاست اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن آج وہ خود انصاف کے لیے سڑکوں پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں واقعے کی شفاف تحقیقات کرائیں اور ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔

احتجاجی شرکاء نے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز اضلاع میں تعینات اہلکاروں کو مناسب وسائل اور تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت واضح لائحہ عمل اور عملی اقدامات کا اعلان نہیں کرتی، دھرنا جاری رہے گا۔

دوسری جانب حکومتی حکام کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، تاہم تاحال دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ دھرنے کے باعث کوئٹہ کے بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

حالیہ حملوں نے ایک بار پھر بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دھرنے میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج صرف شہداء کے لیے انصاف کا مطالبہ نہیں بلکہ پورے صوبے میں پائیدار امن اور شہریوں کے تحفظ کی آواز ہے۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہداء کے خاندانوں کی مکمل سرپرستی کی جائے، زخمیوں کے علاج کو یقینی بنایا جائے اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

LIVE UPDATES

Dispatch from Harnai mines

Our correspondents are on the ground documenting safety reforms and labor conditions in the high-altitude shafts of northern Balochistan.

A wide environmental shot of a dry pomegranate orchard in Pishin, a farmer walking between gnarled trees, dramatic shadows, natural daylight.
A wide environmental shot of a dry pomegranate orchard in Pishin, a farmer walking between gnarled trees, dramatic shadows, natural daylight.
Close-up of hands working on intricate red and gold geometric embroidery, 35mm documentary photography, shallow depth of field.
Close-up of hands working on intricate red and gold geometric embroidery, 35mm documentary photography, shallow depth of field.
A traditional wooden fishing boat docked at Gwadar harbor, deep blue sea, rugged cliffs in the background, late afternoon sun.
A traditional wooden fishing boat docked at Gwadar harbor, deep blue sea, rugged cliffs in the background, late afternoon sun.
Independent Journalism

Reporting the untold narratives

Environment
Culture
Infrastructure

The drying orchards of Pishin

Preserving the craft of Hazara embroidery

Gwadar's coastal transition

How changing weather patterns and groundwater depletion are reshaping the lives of generational farmers in northern Balochistan.

An intimate look inside Quetta's home-based cooperatives where women preserve centuries-old geometric needlework patterns.

Local fishermen navigate shifting tides and modern harbor developments along the Arabian Sea coastline.